ملتان (سٹاف رپورٹر) محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان کے گزشتہ ایک دہائی سے زائد رجسٹرار کی کرسی پر غیر قانونی قابض رہنے والے ڈاکٹر عاصم عمر نےمیرٹ کا راگ الاپنے والے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد کامران کو بھی اپنے رنگ میں رنگ لیا اور اقربا پروری کی بابت اسسٹنٹس کی سیٹس پر غیر قانونی طور پر ڈیلی ویجز ملازمین اور وزٹنگ ٹیچرز کا تجربہ رکھنے والے افراد قواعد و ضوابط کے برعکس تجربے کی مدت شمار کرتے ہوئے بھرتی کے لئے تعیناتی کے لیٹر جاری کر دیئے۔ یاد رہے کہ محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان کے اخبار اشتہار کے مطابق اسسٹنٹ کی تعیناتی کے لیے 16 سالہ تعلیم کے ساتھ ساتھ 5 سال کا تجربہ درکار تھا مگر اپنوں کو نوازنے کی خاطر وائس چانسلر ڈاکٹر محمد کامران نے میرٹ کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے سفارشی افراد کا ڈیلی ویجز اور وزٹنگ ٹیچنگ کا تجربہ شمار کرتے ہوئے تمام ملازمین کو غیر قانونی طور پر بھرتی کر لیا۔ حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق اسسٹنٹ کے عہدے پر بھرتی ہونے والوں میں جو افراد ڈیلی ویجز پر محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان میں 4,5 سال سے کام کر رہے تھے ان میں عمر فاروق اور فہیم احمد شامل ہیں۔ جبکہ نشیتا الواز کا ریگولر جاب کا کوئی تجربہ ہی موجود نہ ہے۔ جبکہ قوانین کے مطابق ڈیلی ویجز ملازمین اور وزٹنگ ٹیچرز کا تجربہ ریگولر تجربے میں شمار نہیں ہوتا اور یہ بات وائس چانسلر اور رجسٹرار کے عہدے پر تعینات اشخاص کو بھی بہت اچھی طرح معلوم ہے مگر میرٹ کا دعویٰ کرنے والے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد کامران نے سفارشی ٹولے کو بھرتی کرتے ہوئے اپنے ہی ڈیلی ویجز ملازمین کا غیر قانونی طور پر تجربہ شمار کرتے ہوئے بھرتی کر لیا۔ اور نشیتا الواز جن کا صرف اور صرف وزٹنگ ٹیچنگ کا تجربہ تھا کو بھی قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے اسسٹنٹ کا لیٹر جاری کر دیا جبکہ حقیقتاً جن امیدواران کا مستقل طور پر اخبار اشتہار کے مطابق 5 سال کا مائیکروسافٹ کا تجربہ تھا ان کو نظر انداز اور ریجیکٹ کرتے ہوئے تجربے پر پورا نہ اترنے والوں کو بھرتی کر لیا۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر محمد عاصم عمر جعلی تجربے کی بابت پہلے بھی سپیشل سیکرٹری جنوبی پنجاب کی سربراہی میں بنائی گئی انکوائری کمیٹی کو مطمئن نہ کر سکے اور اپنے بھائیوں کامران عمر کی تعیناتی میں بھی شریک ہو کر انکوائری بھگت رہے ہیں۔ جبکہ اپنے دوسرے بھائی عمران عمر کی غیر قانونی پروموشن میں بھی ملوث ہیں اور مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثہ جات بنا چکے ہیں۔ جس کی 106 صفحات پر مشتمل کرپشن کے ٹھوس ثبوت بھی روزنامہ قوم کو موصول ہو چکے ہیں۔ مگر حیران کن طور پر میرٹ کا دعویٰ کرنے والے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد کامران بھی رجسٹرار ڈاکٹر محمد عاصم عمر کے نرغے میں آ چکے ہیں۔ اب دونوں افراد ملی بھگت سے 11 سال پہلے قائم ہونے والی یونیورسٹی کو تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ یاد رہے کہ ٹیکنالوجی کالج میں چند کمروں پر قائم یونیورسٹی محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد کامران اعلیٰ ترین حکام کے اتنے منظور نظر کہ ان کو کئی مربعوں پر محیط اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اور میر چاکر یونیورسٹی ڈی جی خان کا بھی اضافی چارج بھی دیا چکا ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں بھی ایڈمن آفیسرز جعلی تجربوں کی بنیاد پر گزشتہ ایک دہائی سے زائد تعینات رہے اور بیشتر کی سندیں جعلی نکل آئیں جن کی بنیاد پر ان کو نوکری سے فارغ بھی کیا چکا ہے۔ اسی بابت ڈیلی ویجز اور وزٹنگ ٹیچرز کا تجربے رکھنے کے حامل افراد کا تجربہ شمار کرکے تعینات کرنے کی بابت توجہ دلاتے ہوئے موقف کے لیے جب محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد کامران سے رابطہ کیا گیا تو وہ کوئی بھی جواب نہ دے سکے۔







