عجیب بات ہے کہ ایک ہی سیاسی جماعت کے ساتھ یہ سب ہورہا ہے، الیکشن کا مطلب لوگوں کی شمولیت ہے، انہیں باہر نکالنا نہیں۔سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی امیدواروں کے کاغذات مسترد کیے جانے کے خلاف کیسز کی سماعت میں جسٹس منصور نے ریمارکس دیے کہ انتخابات میں حصہ لینا بنیادی حق ہے، کسی شخص کو انتخابات کے بنیادی حق سے محروم کرکے سزا دے رہے ہیں۔سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے صدر پرویز الٰہی ،پی ٹی آئی رہنما عمر اسلم، صنم جاوید اور شوکت کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل پر سماعت کی۔
جسٹس منصور نےسوال کیا کہ عمر اسلم کے کاغذات نامزدگی کیوں مسترد ہوئے؟کیا عمر اسلم اشتہاری ہیں؟ اس پر علی ظفر نے بتایا کہ عمر اسلم حفاظتی ضمانت حاصل کرکے ضمانت قبل ازگرفتاری پر ہیں، ان کی انتخابات لڑنےکی ایک آئینی درخواست مسترد اور دوسری منظور ہوئی۔
جسٹس جمال مندوخیل نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ فیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا کہ کون اشتہاری ہے یا عدالتیں؟جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن پاکستان کے عوام کو جوابدہ ہے یا امیدواروں کو؟ الیکشن کمیشن نے پاکستان کی عوام کو جواب دینا ہے۔دوران سماعت الیکشن کمیشن حکام نے عدالت کو بتایا کہ بیلٹ پیپرز چھپنا شروع ہوچکے اب تبدیلی ممکن نہیں ہو گی، اس پر جسٹس اطہر نے کہا کہ بیلٹ پیپر چھپنا شروع ہوگئے تو کیا امیدواروں کو بنیادی حق سے محروم کر دیں؟ جسٹس منصور نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ عدالتوں میں کیسز آئیں گے۔بعد ازاں عدالت نے عمر اسلم کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔
جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پرویز الٰہی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کےخلاف اپیل پرسماعت کی جس دوران پرویز الٰہی کے وکیل احسان کھوکھر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہم الیکشن میں تاخیر نہیں چاہتے، میرے موکل کوپی پی 32 گجرات کی حد تک الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے۔
عدالت نے پرویز الٰہی کی اپیل منظور کرتے ہوئے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور پرویز الٰہی کا نام، انتخابی نشان بیلٹ پیپر پر چھاپنے کی ہدایت کی تاہم پی ٹی آئی کے صدر نے پرویز الٰہی نے باقی تمام انتخابی حلقوں سے دستبرداری اختیار کرلی۔
سپریم کورٹ کے جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے صنم جاوید اور شوکت بسرا کے کاغذات مسترد کیے جانے کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی ۔ عدالت نے صنم جاوید اور شوکت بسرا کی اپیلوں پر سماعت کی، عدالت نے دونوں امیدواروں کے کاغذات مسترد کرنےکے فیصلے کو کالعدم قرار دیا اور الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔
عدالت نے صنم جاوید کو این اے 120،119 اور پی پی 150 سے الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو صنم جاوید اور شوکت بسرا کو انتخابی نشان دینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ 8 فروری کو ان حلقوں میں الیکشن شیڈول کے مطابق انتخابات کرائے جائیں۔







