جامعہ ذکریا ایکٹنگ ڈین تعیناتی، فیصلہ غلط، تعلیمی حلقے، انتظامیہ کی وی سی کی مداح سرائی

ملتان (سٹاف رپورٹر) بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر کی جانب سے گورنر پنجاب /چانسلر کے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے یونیورسٹی میں ایکٹنگ ڈین لگانے کی بابت خبر شائع ہونے پر اعلیٰ تعلیمی حلقوں کے ملے جلے خیالات اور رد عمل سامنے آ گیا۔ قوم کی اس خبر پر رد عمل دیتے ہوئے بی زیڈ یو لاء کالج کی پرنسپل ڈاکٹر سمزہ فاطمہ کا کہنا تھا کہ یہ خبر ہی ٹھیک نہیں، وی سی کا فیصلہ ہی حتمی ہوتا ہے۔ روزنامہ قوم ریسرچ سیل کی جانب سے پوچھا گیا کہ براہ کرم کوئی ٹھوس ثبوت اور منطق فراہم کریں۔ ان شاء اللہ ہم سمجھیں گے اور ترمیم شدہ خبر بھی شائع کریں گے جس کے جواب میں بی زیڈ یو ہی کے فزکس ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین نے روزنامہ قوم کے ریسرچ سیل کو ایکٹنگ ڈینز لگانے کا نوٹیفکیشن فارورڈ کر دیا کہ براہ کرم نوٹیفکیشن کو دوبارہ پڑھیں، کیونکہ نہ تو کسی قاعدے کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی کو کسی بھی شعبے کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جیسا کہ رپورٹ کیا گیا۔ نوٹیفکیشن میں واضح طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ وہ قانونی اختیارات استعمال نہیں کریں گے بلکہ صرف وائس چانسلر کی معاونت کے لیے مقرر کیے گئے ہیں تاکہ روزمرہ کے امور کو سنبھالا جا سکے، جو کہ ایک اچھا انتظامی فیصلہ ہے۔ ورنہ ان فیکلٹیز کے اساتذہ جن کے پاس ڈین نہیں تھا مشکلات کا شکار تھے جو کہ کسی کے مفاد میں نہیں تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ آپ کے اخبار کو اس فیصلے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ جب ریسرچ سیل کی جانب سے سوال کیا گیا کہ ایک وائس چانسلر اور سنڈیکیٹ کس طرح چانسلر کے اختیارات خود لے کر کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں اور انہیں استعمال کر سکتے ہیں؟ صرف چانسلر ہی کو ڈین مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے، تو پھر چانسلر کے علاوہ کوئی اور اضافی چارج کیسے دے سکتا ہے؟ جس پر گیلانی لاء کالج کی پرنسپل ڈاکٹر سمزہ فاطمہ کا کہنا تھا کہ قائم مقام ڈین کی تقرری چانسلر کا اختیار نہیں ہے۔ چانسلر کا اختیار یہ ہے کہ وہ مکمل مدت کے لیے ڈین مقرر کرے، جسے تمام قانونی اختیارات حاصل ہوں۔ جس پر ڈاکٹر عبد المتین کا کہنا تھا کہ قانونی فرائض کے علاوہ، ڈین کے دیگر فرائض کیا ہو سکتے ہیں؟ تمام انتظامی فرائض تو شعبہ کے چیئرمین انجام دیتے ہیں۔ ڈاکٹر سمزہ فاطمہ کے اس بیان کہ ایکٹنگ ڈین تعینات کرنا چانسلر کے اختیار میں نہیں، پر بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے ہی سابق اور حالیہ ریٹائر ہونے والے رجسٹرار ڈاکٹر علیم خان کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق چانسلر کے علاوہ کوئی بھی قائم مقام ڈین مقرر نہیں کر سکتا۔ وائس چانسلر یا سنڈیکیٹ کے پاس قائم مقام ڈین کی تعیناتی کا سرے سے کوئی اختیار ہی نہیں اور ڈین کا ایکٹنگ یا ایڈیشنل چارج صرف اور صرف گورنر/چانسلر ہی دے سکتے ہیں۔ جس پر مزید بات کرتے ہوئے بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے ہی سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی کا کہنا تھا کہ یہ غلط فیصلہ ہے کیونکہ وائس چانسلر حضرات ڈینز کی تعیناتی نہیں کر سکتے اور 99 غلطیاں مل کر بھی ایک درست کام نہیں بنا سکتیں۔ اس پر مزید بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عبد المتین نے DEAD HORSE THEORY کی مثال دے کر کہا کہ DEAD HORSE THOERY اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ کس طرح بہت سے لوگ اور تنظیمیں حقیقت سے انکار کو ترجیح دیتی ہیں اور مسئلے کو ابتدا میں تسلیم کرنے اور زیادہ ذہانت اور مؤثر فیصلے کرنے کے بجائے غیر مؤثر حل پر وقت وسائل اور محنت ضائع کرتی ہیں۔ روزنامہ قوم ایجوکیشن ریسرچ سیل کی جانب سے خبر کو نوٹیفکیشن اور بی زیڈ یو کے ایکٹ کے شیڈول کے سیکشن 2 ، ڈینز کی تعیناتی کے طریقہ کار کو چانسلر/ گورنر پنجاب کی پی آر او کو بھجوا دیا گیا تاکہ اصل اور واضح صورتحال معلوم ہو سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں