اسلامیہ یونیورسٹی میں کرپشن کا نیا بازار، امتحانی برانچ عملے کا طلبہ کی جیبوں پر ہاتھ صاف

بہاولپور (سپیشل رپورٹر) اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں کرپشن کا نیٹ ورک بے نقاب ہوگیا۔ ایگزامینیشن برانچ کے اہلکار مبینہ طور پر بدعنوانی، بیرونی کاروبار اور غیر حاضری میں ملوث نکلے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ایگزامینیشن برانچ میں کرپشن، اقربا پروری اور بدعنوانی کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق برانچ میں تعینات بعض اہلکاروں نے نہ صرف یونیورسٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ ذاتی مفاد کے لیے طلبہ کا استحصال بھی معمول بنا رکھا ہے۔ تفصیل کے مطابق ایگزامینیشن برانچ کے دو اہلکار اختر گجراور یوسف گجر مبینہ طور پر اس بدعنوان نیٹ ورک کے مرکزی کردار ہیں۔ ان دونوں اہلکاروں کے رشتہ دار یونیورسٹی چوک پر واقع پرائیویٹ دکان’’دارالسلام کمپیوٹر کمپوزنگ سنٹر‘‘کے مالک ہیں، جسے طلبہ کے تمام آن لائن یا کمپوزنگ سے متعلق کاموں کے لیے باقاعدہ طور پر’’ریکمنڈ‘‘کیا جاتا ہے۔ طلبہ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اسی دکان سے اپنا کام کروائیں، جہاں سے حاصل ہونے والی رقم بعد میں اندرونی طور پر بندر بانٹ کر لی جاتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کوئی طالب علم یا امیدوار براہِ راست ایگزامینیشن برانچ میں کسی درخواست یا دستاویز کے لیے رجوع کرے تو اس پر بلاجواز اعتراض لگا دیا جاتا ہے یا پھر بھاری رشوت طلب کی جاتی ہے۔ تاہم اگر یہی کام دارالسلام کمپوزنگ سنٹر کے ذریعے کروایا جائے تو وہ فوری اور بغیر اعتراض کے مکمل کر دیا جاتا ہے مزید یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ مذکورہ اہلکار باقاعدہ حاضری لگا کر یونیورسٹی سے غائب ہو جاتے ہیں اور اپنی نجی مصروفیات یا کاروبار میں مصروف رہتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر متعلقہ اہلکاروں کے موبائل فونز کا سی ڈی آر (Call Detail Record) حاصل کیا جائے تو تمام تر روابط اور سرگرمیاں بے نقاب ہو جائیں گی۔ تعلیمی حلقوں، طلبہ تنظیموں اور والدین نے وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اور متعلقہ تحقیقاتی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے نیٹ ورک کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ ادارے کا وقار بحال ہو اور طلبہ کا اعتماد دوبارہ قائم ہو سکے۔

بہاولپور: اسلامیہ یونیورسٹی کے مین گیٹ پر لگے ہوئے واضح بورڈ کی تصویرجبکہ دوسری جانب یوسف گجر اور اختر گجر کی فائل فوٹو

شیئر کریں

:مزید خبریں